Ibtada - Safaid Din Ki Hawa

April 29, 2007 on 1:41 am | In Safaid Din Ki Hawa | No Comments

سفید دن کی ہوا 

 منیر نیازی کی شاعری میں واضح طور پر دو جہتیں ملتی ہیں ۔ ایک جہت معنو یت کی اور دوسری فضا کی ۔ آج جب بہت اہم ناقدین معنویت پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور زبان و لفظ کے رشتے کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں ۔ منیر نیازی کی شاعری کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے کہ ان کے کلام میں الفاظ معنی سے زیادہ علامتوں سے قریبی شکل میں استعمال ہوئے جنہیں سو میز ______ نے نشان کہا ہے ۔ چنانچہ اس کتاب کا عنوان "سفید دن کی ہوا "اس بات کی تائید کر رہا ہے اور وہ مختصر نظم بھی جس سے یہ عنوان اخذ کیا گیا ہے ۔

سیاہ شب کا سمندر

سفید دن کی ہوا

اور ان قبود کے اندر

فریب ارض وسما

 منیر نیازی کے ڈکشن  ( Diction ) کی یہی خوبی ہے کہ ان کی شاعری میں معنی کے ساتھ ایک فضا بھی ملتی ہے۔ ایسی فضا جو پر اسرار حسین اور ایک خوابناک ہے جیسے کوئی خواب دیکھ رہا ہویا خود اپنے آپ سے کلام کررہا ہو۔

کوئی آئے باغ میں اس طرح

کوئی دید جس طرح بہار میں

کوئی رنگ دار سحر اڑے

کسی گوشہ شب تار میں

کوئی یاد اس میں ہو اس طرح

کوئی رنج جیسے خمار میں

کوئی زندگی کسی خواب میں

کوئی کام کوچہ یار میں

      (کار اصل زیست)

 خواب دیکھنا اور خود سے کلا م کرنا انسانی فطرت کا ایسا حصہ ہے جس پر تاریخ اور سماجی و سیاسی حالات اثر انداز نہیں ہوتے ۔ ازل سے ہر انسان کی زندگی کا بڑا حصہ ان دو صورتوں میں گزرتا ہے ۔ خارجی منطقیت کی ابتداء بھی اسی صورت میں ہوتی ہیں ۔ یہی وجہ شاعر وجہ شاعر کی عظمت کو تسلیم کرواتی ہے۔

 شاعر خارجی اثرات لے کر داخلیت کی طرف لوٹتا ہے اور جب یہ اثرات اس کی داخلیت میں جذب ہوکر اظہار پاتے ہیں تو خارجی اور داخلی کیفیت کا وہ امتزاج سامنے لاتے ہیں جس میں اس عہد کی حسیت جھلکی ہے ۔ تکنیک کے لبادے میں پوشیدہ یہ حسیت ہی شاعر کی حسیت کو تسلیم کرواتی ہے ۔ منیر نیازی کے یہاں یہ حسیت اتنی واضح ہے کہ ہمیں یہ عہد ان کی حسیت منسوب ہوتا نظر آرہا ہے ۔

  ایک عہد کو متاثر کرنا وہ بھی اس صدی میں جو Compilationکا عہد ہے اور ہر نسل ذہنی طور پر پچھلی نسل سے کہیں زیادہ توانائی پیدا ہورہی ہے بڑی استقامت چاہتا ہے۔ ایک مسلسل توانائی جو تاثر کو ٹوٹنے نہ دے ۔خصوصاً شاعری میں جو عمل شعوری عمل نہیں ہے اس توانائی کو برقرار رکھنا بہت مشکل ہے ۔ منیر نیازی کے پہلے مجموعے "تیز ہوا اور تنہا پھول"سے اس نئے مجموعے تک ان کا سفر دیکھیے ۔

آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو

                     (تیز ہوا اور تنہا پھول)

ایک دریائے فنا ہے اس کی ہستی اے منیر

خاک اڑتی ہے وہاں پر جس جگہ بہتا ہے وہ

                        (سفید دن کی ہوا)

 جنوری ۹۵۹۱ء میں جب ان کا پہلا مجموعہ چھپا تھا اور آج جب ۴۹۹۱ء کا نصف سال گزرچکا ہے شاعری کے گرتے ہوئے بتوں میں وہ اپنے پورے قدو قامت کے ساتھ اسی منفرد لہجے کو سنبھالے ہوئے کھڑے ہیں جو ان کی پہچان ہے ۔

 منیر نیازی کی غزلوں کے بہت سے اشعار یاد رہ جاتے ہیں ۔ یہ خوبی تو غزل صنف میں ہے پر نظموں کا یاد رہ جانا حیرت ناک ہے ۔ منیر نیازی کی اکثر نظمیں ذہن پر نقش ہوجاتی ہیں اور جب یاد آتی ہیں تو اپنے پورے تاثر کے ساتھ ۔ ان کی نظموں میں لفظوں کی روانی کے ساتھ ساتھ گزرتے ہوئے منظروں کی روانی ہے جیسے کوئی فلم نظروں کے سامنے سے گزر رہی ہو جیسے کوئی سفر میں ہواور کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہا ہو۔ یہ پیرا یہ اظہار منیر نیازی نے لاشعوری طور پر اختیا ر کیا ہے شاید یہ انداز اس آنکھ سے بیرونی دنیا کے مشاہدے کی خوبی نے پیدا کیا ہے جسے قمر جمیل نے اندرونی آنکھ کہا ہے شاعر بیک وقت چیزوں کو انداز میں دیکھ رہا ہے ۔

تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتا دیکھ لیتا ہوں

میں بس کی کھڑکیوں میں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوں

کبھی دل میں اداسی ہوتو ان میں جا نکلتا ہوں

پرانے دوستو کو چپ سے بیٹھا دیکھ لیتا ہوں

  

  یہ تو پیرایہ اظہار کی بات تھی ۔ اب اس مجموعے میں ایک نظم دیکھئے ۔

اس کڑی مسافت میں

رہگزار آفت میں

اک طویل کنار عادت میں

بے شمار نسلوں کی

بے وفا وراثت میں

منتظر ہیں میرے بھی

ہم سفر کے بھی

                               (ایک وعدہ جو مجھ سے کیا گیا ہے )

 منیر نیازی کی شاعری کوان کی نسل اور بعد کی نسل دونوں نے محسوس کیا ہے ۔ ان کے لہجے میں ایک معصوم بچے کی حیرت ہے ۔یہ حیرت بہت سے سوالات ، آئندہ کے اندیشے ، گزرے دنو ں کے افشا ہوتے راز ، جو ہورہا ہو وہ ، جو ہو نہ سکا وہ بھی ، غم و غصہ ، پیار و نفرت ، لا حاصلی کا احساس اور کچھ حاصل ہونے کی مسرت ، یہ تمام کیفیات ہمیں منیر نیازی کی شاعری میں خوبصورتی سے سمٹی نظر آتی ہیں جبھی انہیں بڑھ کر ایک سر خوشی کا حساس ہوتا ہے ۔

وہ سر خوشی جو بہت کم نصیب ہوتی ہے

          فاطمہ حسن

Next Page »

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^