Nazam - Miltay Jultay Zamanay

April 28, 2007 on 11:53 pm | In Safaid Din Ki Hawa |

ملتے جلتے زمانے

شام تھی اور شام کے دوران یہ سب کچھ ہوا

دائیں جانب بیٹھے میرے دوست نے مجھ سے کہا

"بائیں جانب دیکھنا ‘ منظر ہے کیسا دلربا "

گہری ہوتی جارہی اس شام میں اس شہر کے آغاز کا

جا بجا روشن نشانوں سے مزین اک سیہ کہسار سا

میں نے یہ پہلے بھی دیکھا تھا یہی منظر

کہیں پہلے پرانے خواب میں

منزلوں پر منزلیں آبادیوں کی ‘

اور ان میں

جا بجا روشن دیے

میں نے اپنے دوست سے ‘

اس سلسلے میں اور کچھ باتیں نہ کہیں

بس یونہی خاموش بیٹھا

اس پرانے خواب کو تکتا رہا

کتنا چلتے اور

کتنا تھکتے اور

منزل آخر مل ہی جاتی

آس اک رکھتے اور

اس بستی میں جو کچھ دیکھا

دیکھ نہ سکتے اور

ایک بھی خواب جو پورا ہوتا

خواب نہ تکتے اور

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^