Ghazal - Rahattein Jitni Bhi Hoon Sab
April 29, 2007 on 1:14 am | In Safaid Din Ki Hawa |راحتیں جتنی بھی ہیں سب مشکلوں کے دم سے ہیں
زندگی میں جو بھی سکھ ہیں خواہشوں کے دم سے ہیں
شہر کا تبدیل ہونا ، شاد رہنا اور اداس
رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں
منزلیں آسماں بہت تنہا سفر کرنے سے ہیں
رنج ہیں جتنے سفر میں ہم دموں کے دم سے ہیں
ایک بستی کی حفاظت خوف میں رہنے سے ہے
اور اس کے جشن دل کی وحشتوں کے دم سے ہیں
باغ ، جنگل ، خوشنما بیلیں مکانوں پر منیر
اس زمیں پر رنگ سارے پانیوں کے دم سے ہیں
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^