Nazam - Dhund Hai Aur Shehar Hai Aur Khawb Hai
April 29, 2007 on 1:16 am | In Safaid Din Ki Hawa |دُھند ہے اور شہر ہے اور خواب ہے
برھتی جاتی دھند ہے اور اس کے پیچھے شہر ہے
برھتی جاتی دھند ہے اور اس کے پیچھے شام ہے
برھتی جاتی دھند میں بازار ہیں اور خواب ہے
برھتی جاتی دھند ہے اور اس میں بوئے آب ہے
برھتی جاتی دھند ہے اور شہر دلارام ہے
دھندلے دھندلے لوگ ہیں اور باغ ہیں اور شام ہے
اور ان قیود کے اندر فریب ارض و سما
سیاہ شب کا سمندر
سفید دن کی ہوا
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^