Nazam - Koi Aik Umar Khushiyon Ki
April 29, 2007 on 1:26 am | In Safaid Din Ki Hawa |کوئی اک عمر خوشیوں کی بہت ہی دوری ہے اس کو
سراپا دشت ہے لیکن چمن مستور ہے اس کو
کوئی مخفی حقیقت ہے بظاہر ابتر عالم میں
کوئی پوشیدہ نظارہ ہے جو مجبور ہے اس میں
خواب میں دیکھو اسے اور شہر میں ڈھونڈو اسے
وقفے وقفے سے رونق میں بیٹھے دیکھنا
مختلف لوگوں ، گھروں میں چلتے پھرتے دیکھنا
اس کی آنکھوں میں محبت کو دمکتے دیکھنا
دیکھ کر اس کو بچھڑ جانا ہجوم شہر میں
اور اک منظر میں پھر اس کو گزرتے دیکھنا
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^