Nazam - Sundari Aik Darakhat Hai Jis Pay Koi Tair Nahi
April 28, 2007 on 11:42 pm | In Safaid Din Ki Hawa |سندری ایک درخت ہے جس پر کوئی طائر نہیں بیٹھتا
سندریاں ہی سندریاں تھیں
سندر بن میں دور تک
ایک بڑے دریاسے لے کر
اک سمت مستور تک
ایک ادا جو میں نے دیکھی
سندریوں کی خاموشی کے
بہت ہرے اسرار میں
جس پر شام اتری تھی جیسے
سیاہی سرخ غبار میں
اک طائر بھی وہاں نہیں تھا
انبوہ اشجار میں
بوندا باندی میں کسی گھنے شجر تلے
زمانے کو بھول کر‘
بیٹھ کر سوچنے کی گھڑی ہے
اور دروازے پر ہورہی دستک کا جواب دینا ہے مجھے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^